تحریر: دانش عباس خان
حوزہ نیوز ایجنسی|
مقدمہ
حضرت امام حسین علیہ السلام کی عظیم الشّان شخصیت محتاجِ تعارف نہیں ہے، حقیقی معنوں میں حسب، نسب، ذات، صفات اور کمالات کے اعتبار سے امت میں کوئی آپ کا ہم پلّہ اور برابر کا ہرگز نہیں ہو سکتا۔
حسب ایسا کہ دادا سید بطحا اور مؤمن قریش، دادی مومنہء خالق یگانہ، نانا سید المرسلین، نانی ملیکة العرب، باپ سید الاوصیاء اور ماں سیدة نساء العالمین۔
ذات و صفات کے اعتبار سے صاحب علم لدنی، امام معصوم، عرصہء کربلا کے خطیب، فتح مرتضی کے نقیب، قلب رسالت کے چین، سلسلہء امامت کے حسین۔
کیا ایسی بے مثال ذات سے کسی مومن، محب، عالم اور فقیہ کا حقیقی معنوں میں مقائسہ کیا جا سکتا ہے؟
یا اگر ہم پلہ نہیں تو کیا آپ کی ذات والا صفات کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ کی ایمانی اور انقلابی صفتوں سے قریب کوئی مومن ہو سکتا ہے کہ جسے بربنائے تشبیہ اور استعارہ کہا جا سکے کہ یہ وقت کا حسین یا حسین جیسی صفت کا حامل ہے؟
آیئے آیات و روایات کے ذیل میں ان دونوں مسئلے کا جائزہ لیتے ہیں:
مقام و منزلت میں وجہ افتراق :
مختلف آیات و روایات سے صاف واضح ہے کہ حضرت امام حسین علیہ السلام علم لدنی، عصمت و امامت کے درجہ پر فائز ہیں من جملہ آیت والراسخون فی العلم آپ کے صاحب علم لدنی ہونے پر دلیل ہے، آیت تطہیر آپ کی عصمت پر خط ثبوت بنی ہوئی ہے، آیت مباہلہ آپ کی صداقت پر نثار ہے، آیت مودّت آپ کی محبت کو واجب قرار دیتی ہے اور احادیث میں جیسے حدیث ثقلین، حدیث سفینہ اور حدیث حسین منی وغیرہ ہے جس کے اتم و حقیقی مصداق آپ ہیں یا آپ کی آل اطہار(ع)، اس کے علاوہ کوئی بھی مومن، عالم، فقیہ اتم مصداق تو نہیں بن سکتا، لیکن علم و تقوی کی بنیاد پر امام حسین(ع) اور آپ کی آل اطہار سے نزدیک ہونے کی بنیاد پر ان کے زمرے میں شامل ضرور ہو سکتا ہے جیسا کہ زیارات وغیرہ میں ائمہ معصومین(ع) نے تعلیم فرمائی ہے کہ اس طرح کی ہمیں دعا کرنا چاہئے: وَ أَنْ يَجْمَعَنَا وَ إِيَّاكُمْ فِي زُمْرَةِ جَدِّكُمْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ۔
مقصد اور ہدف میں وجہ اشتراک:
خداوند متعال کی طرف سے بھیجے گئے ہادیوں کے درمیان فضیلت اور مقام و منزلت کے لحاظ سے فرق پایا جاتا ہے، کوئی صرف نبی ہے تو کوئی نبی اور رسول دونوں، کوئی نبی، رسول کیساتھ امام بھی ہے، کوئی صاحب کتاب ہے تو کوئی نہیں، اسی طرح ہمارا عقیدہ ہے کہ آخری نبی اور رسول کے سوا باقی سارے نبیوں اور رسولوں پر اوصیاء پیغمبر اسلام(ص) یعنی اہل بیت اطہار(ع) فضیلت رکھتے ہیں۔
لیکن ان تمام فرق کے باوجود سب کا راستہ ایک ہے وہ ہے وحدانیت اور اطاعت پروردگار کا راستہ، جس میں کوئی فرق نہیں ہے، سبھی آدم ہیں تو سبھی نوح، سبھی ابراہیم ہیں تو سبھی موسی و عیسی اور محمد(صلوات اللہ علیھم اجمعین)۔
آخری رسول کے لئے ارشاد ہو رہا ہے: أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُۖ فَبِهُدَىٰهُمُ ٱقۡتَدِهۡ.(انعام/۹۰)
وہ لوگ وہ ہیں(گزشتہ انبیاء و مرسلین) کہ جنھیں الله نے ہدایت دی ہے پس آپ (اے پیغمبر) ان کی پیروی کیجئے۔
یہ بات مسلّم ہے کہ سارے نبیوں اور رسولوں میں ہمارے آخری رسول کا مرتبہ بلند ہے لیکن ہدایت کی منزل میں سب سے برابر کا خطاب ہے کہ مقصد و ہدف میں کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہے، سب دین الہی پہونچانے اور بچانے کے ذمہ دار ہیں۔
ہدف اور مقصد کی پاسداری میں مؤمنین بھی برابر کے شریک ہیں، ارشاد ہو رہا یے:اٰمَنَ الرَّسُولُ بِمَا اُنزِلَ اِلَیہِ مِن رَّبِّہٖ وَ المُؤمِنُونَ ؕ کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّن رُّسُلِہٖ ۟ وَ قَالُوا سَمِعنَا وَ اَطَعنَا غُفرَانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیکَ المَصِیرُ. (بقرہ/۲۸۵)
رسول اس کتاب پر ایمان رکھتا ہے جو اس پر اس کے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور سب مومنین بھی، سب اللہ اور اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں (اور وہ کہتے ہیں) ہم رسولوں میں تفریق کے قائل نہیں ہیں اور کہتے ہیں: ہم نے حکم سنا اور اطاعت قبول کی۔۔۔
مذکورہ آیت میں مرسلین اور مؤمنین دونوں ایک زبان کہتے ہیں کہ ہم مطیع پروردگار ہیں۔
امام حسین علیہ السلام جب عراق کے راستہ میں حر کے لشکر سے ملتے ہیں تو امام نے مؤقف نہ بدلنے اور یزید کی بیعت سے انکار کرنے پر فرمایا: لِيَرْغَبِ اَلْمُؤْمِنُ فِي لِقَاءِ اَللَّهِ مُحِقّاً؛ مؤمن کو چاہیے کہ اللہ کی ملاقات (یعنی موت) کے لئے آگے بڑھے، امام نے یہاں یہ نہیں فرمایا امام یا حسین کو چاہیے، بلکہ فرمایا: مؤمن کو چاہیے کہ راہ حق میں موت کو گلے لگا لے، گویا کہ دین کی حفاظت میں ہر مومن معاشرہ ذمہ دار ہے، باطل کی نابودی کے لئے امام حسین(ع) کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہونا ہر مؤمن کا وظیفہ ہے، اگر باطل سے ٹکرانا صرف حسین کی ذمہ داری ہوتی تو اصحاب و انصار کی کیا ضرورت تھی حسین ابن علی(ع) تنہا یزیدیت سے ٹکراتے، لیکن نہیں! حسین کیساتھ کھڑا ہونے والا ہر کوئی عزم حسین(ع) لیکر کھڑا ہوا تھا، ہر ایک صحابی کے سینہ میں حسین(ع) کا دل تڑپ رہا تھا کہ دین محفوظ رہ جائے چاہے اس راہ میں جان کا نذرانہ کیوں نہ پیش کرنا پڑے۔
امام حسین علیہ السلام کا قیام انکار بیعت سے اس جملہ سے شروع ہوا تھا: "مثلی لا یبایع مثله" مجھ جیسا اس یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا؛ یہ یزیدیت کے سامنے انکارِ بیعت کی للکار ہر اس فرد کی للکار ہے جو فکر و نظر کا حسین ہے تو ہوش و خرد کا امام؛ لہٰذا اب یہاں جغرافیائی اعتبار سے زمین کربلا اور تاریخی اعتبار سے ۱۰ محرم سن۶۱ ہجری کا مسئلہ نہیں رہ جاتا، بلکہ ہر زمین پر حسین کی قیادت ہے اور ہر زمانہ میں حسین کی رہبری ہے، ممکن ہے حالات میں فرق آجائے کبھی ایک وقت تک ظاہری طور پر معصوم ہاتھوں سے قیادت اور رہبری انجام پائے ایک وقت ایسا آئے کہ معصوم رہبر لوگوں کے بیچ نہ ہو مگر اس کا نائب اور سفیر اس کام کو انجام دے رہا ہو۔
تشبیہ کا مسئلہ قرآن مجید سے بھی واضح ہے کہ خداوند عالم نے مختلف مقامات پر جہاں اپنی بعض صفتوں کا ذکر فرمایا ہے انہیں صفتوں کو اپنے ہادیوں یا صاحبان ایمان کے لئے یاد فرمایا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک آیت کی طرف صرف اشارہ کرنا کافی یے:لَقَدۡ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ. (توبہ/۱۲۸)
بتحقیق تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ایک رسول آیا ہے تمہیں تکلیف میں دیکھنا ان پر شاق گزرتا ہے، وہ تمہاری بھلائی کا نہایت خواہاں ہے اور مومنین کے لیے نہایت شفیق، مہربان ہے۔
خدا کے لئے رحیم جیسی صفت کا ذکر ہم ہر وقت بسم اللہ الرحمن الرحیم میں کرتے ہیں مگر یہاں تو خدا اپنے رسول کے لئے فرما رہا ہے آپ مؤمنین کے لیے رحیم ہیں۔ لیکن دونوں کا فرق واضح ہے خدا رحیم مطلق ہے اور رسول مظہر رحمانیت پروردگار ہیں۔
نتیجہ
حسین زمان کی تشبیہ رہبر شہید سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ تعالی علیہ) کے لیے راہ و ہدف کے ایک ہونے کی بنیاد پر ہے نہ کہ امام حسین علیہ السلام کی عصمت و طہارت اور علم لدنی کی بنیاد پر ہے اور اس سلسلے میں رہبرِ شہید جیسے رہبران دین کے بیانات بھی موجود ہیں کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ محرم اور صفر کا نتیجہ ہے گویا کہ ایران کے اسلامی انقلاب کے کشکول میں کربلا کی ہی خیرات ہے۔
لہٰذا امام خمینی(رضوان اللہ تعالی علیہ) یا رہبر شہید یا آپ کے بعد رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای (مد ظله العالی) جیسے مؤمن، مدبر، شجاع، فقیہ جنہیں نص معصوم کے تئیں ولایت فقیہ مطلقہ کا درجہ دیا جاتا ہے، لہٰذا ولئ فقیہ کو حسین زمان کہنا بھی صرف اس بنیاد پر ہے کہ جس طرح کل ۱۴۰۰ سال پہلے خیمہ گاہ حسین میں اصحاب نے وقت کے امام کے ہاتھوں بیعت کیا تھا اور باطل کے سامنے سرنگوں نہیں ہوئے تھے تو ہم بھی آج اسی راہ کی تاسی کرتے ہوئے سفیر حسین کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے تاکہ جب غیبت کا پردہ ہٹا کر حقیقی وارث آئے تو اس کے ہاتھ پر بیعت کے قابل رہیں۔
اللَّهُمَّ إِنَّا نَرْغَبُ إِلَيْكَ فِي دَوْلَةٍ كَرِيمَةٍ تُعِزُّ بِهَا الْإِسْلامَ وَ أَهْلَهُ وَ تُذِلُّ بِهَا النِّفَاقَ وَ أَهْلَهُ وَ تَجْعَلُنَا فِيهَا مِنَ الدُّعَاةِ إِلَى طَاعَتِكَ وَ الْقَادَةِ إِلَى سَبِيلِكَ وَ تَرْزُقُنَا بِهَا كَرَامَةَ الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ
٣ربیع الاول، ۱۴۴۸ ہجری قمری









آپ کا تبصرہ